Skip to main content

BLA statement on Karachi Stock Exchange attack

Source; https://t.me/hakkal_official
 کراچی اسٹاک ایکسینج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل اے

آج بروز پیر بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کے فدائین نے کراچی میں پاکستان کے سب سے بڑے اسٹاک ایکسینج 'کےایس ای' پر حملہ کرکے متعدد سیکورٹی اہکاروں کو ہلاک کردیا۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی ہے۔

اس حملے کا مقصد پاکستان کی معیشت کو نشانہ بنانا تھا۔ پاکستان کی معیشت بلوچ قوم کی بہتر سالہ استحصال اور نسل کشی پر کھڑی ہے اور کراچی اسٹاک ایکسچینج اسی استحصالی معیشت کی ایک بنیاد اور علامت ہے۔ مجید بریگیڈ کے فدائین پاکستان کی معیشیت کی ریڑھ کی ہڈی پر وار کرکے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جو معیشت بلوچوں کی لوٹ کھسوٹ اور خون کی قیمت پر دشمن تعمیر کرتارہا ہے، اسے پاکستان جتنا محفوظ سمجھتا ہو، بلوچ سرمچار اسے کہیں بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت اور سکت رکھتے ہیں اور اسکی کمر توڑ سکتے ہیں۔ 

بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں نا صرف قابض ملک پاکستان شامل ہے، بلکہ چین بھی اس میں براہ راست شریک ہے۔ ہم اس سے قبل چین کو تنبیہہ کرچکے ہیں کہ وہ بلوچستان میں اپنے استحصالی اور توسیع پسندانہ عزائم کو روک لے، چینی لوٹ مار کو روکنے کیلئے اس سے پہلے مجید بریگیڈ دالبندین میں چینی انجنیئروں، کراچی چینی قونصل خانے اور پی سی ہوٹل گوادر میں چینی وفود پر فدائی حملے کرچکا ہے۔ اسکے باوجود چین بلوچستان میں اپنے استحصالی منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے۔ چینی بازار حصص " چائینیز شنگھائی سٹاک ایکسینج"، " شینزن سٹاک ایکسینج " اور "چائنا فانینشل فیوچر ایکسچینج" کراچی اسٹاک ایکسینج کے چالیس فیصد حصص کے مالکان ہیں۔ یہ حملہ محض پاکستان کے معاشی مفادات پر نہیں بلکہ ساتھ ساتھ بلوچستان میں چین کے استحصالی منصوبوں کے ردعمل میں چینی معاشی مفادات پر بھی ایک حملہ اور وارننگ ہے کہ چین اگر بدستور بلوچ استحصال میں شامل رہے گا، بلوچ نسل کشی میں پاکستان کی معاونت جاری رکھے گا، تو اس کے مفادات پر بلوچ سرمچاروں کے حملوں میں مزید شدت لائی جائیگی۔ 

کراچی سٹاک ایکسچینج پر آج فدائی حملہ کرنے والے مجید بریگیڈ کے جانباز فدائین، آپریشن کمانڈر شہید فدائی سنگت سلمان حمل عرف نوتک سکنہ مند تربت، شہید فدائی سنگت تسلیم بلوچ عرف مسلم سکنہ دشت تربت، شہید فدائی سنگت شہزاد بلوچ عرف کوبرا سکنہ پروم پنجگور اور شہید فدائی سنگت سراج کنگر عرف یاگی سکنہ شاپک تربت تھے۔ چاروں فدائین بلوچ تاریخ مزاحمت میں ایک درخشاں باب کے طور پر تاابد حیات رہیں گے۔ قومی شعور سے لیس یہ نوجوان اس امر سے بخوبی آگاہ تھے کہ قومی آزادی و خوشحالی کا خواب بغیر قربانی کے کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا، اور اپنے نظریئے پر عملی طور پر گامزن ہوکر انہوں نے اس راہ کو مزید منور کردیا جسے جنرل اسلم بلوچ نے اپنے سوچ اور خون سے سینچا اور دوسرے کئی عظیم شہداء اس راہ پر چل کر امر ہوئے۔ 

بلوچ لبریشن آرمی یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ جنگ میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا ہمارے جنگی فلسفے کا حصہ نہیں۔ غیر مہذب دشمن کے برعکس ہماری کامیابی کا معیار زیادہ سے زیادہ انسانی جانوں کے ضیاع کے بجائے قابض نظام کے براہ راست محافظوں اور استحصالی علامات کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ اس لیئے کراچی اسٹاک ایکسینج پر حملہ کرنے والے مجید برگیڈ کے فدائین کو واضح ہدایات تھیں کہ وہ حملے کے دوران کسی بھی عام شہری کو نقصان نہیں پہنچائیں اور محض ہتھیار بند سیکیورٹی اہلکاروں کو ہی نشانہ بنائیں اور کوئی بھاری دھماکہ خیز مواد استعمال نا کریں جس سے عام شہریوں کی ہلاکت کا اندیشہ ہو۔ اسی لیئے حملے کا وقت اور دن ایسا چنا گیا جب کے ایس ای کے احاطے میں عام شہری نا ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ فدائین کا مقصد پاکستانی و چینی معاشی مفادات کے مرکزی علامت کو نشانہ بناکر پوری دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ یہ دونوں استحصالی قوتیں بلوچستان پر قبضے اور لوٹ مار میں شریک ہیں، اور بلوچ عوام نا اس قبضے کو تسلیم کرتی ہے اور نا ہی بلوچستان کے متعلق انکے کسی استحصالی کاروباری معاہدے کو۔ فدائین اپنا مطلوبہ مشن کم سے کم انسانی جانوں کے نقصان پر پورا کرکے، مشن کو کامیابی سے ہمکنار کرگئے۔

بلوچ اور سندھی اقوام برادر اقوام ہیں، ہماری ہزاروں سال کی مشترکہ تاریخ ہے اور اس وقت یہ دونوں برادر اقوام اپنی اپنی دھرتی کی آزادی کیلئے پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ اس جنگ آزادی میں دونوں اقوام کو ایک دوسرے کی ہمیشہ معاونت حاصل رہی ہے۔ آج کے حملے میں مجید بریگیڈ کو سندھی قوم کی بھرپورعملی مدد حاصل تھی، جو بلوچ و سندھی اقوام کے تاریخی برادرانہ تعلقات کی عکاس ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

SSG Commando Muddassir Iqbal of Pakistan Army

“ Commando Muddassir Iqbal was part of the team who conducted Army Public School operation on 16 December 2014. In this video he reveals that he along with other commandos was ordered to kill the innocent children inside school, when asked why should they kill children after killing all the terrorist he was told that it would be a chance to defame Taliban and get nation on the side. He and all other commandos killed children and later Taliban was blamed.
Muddassir Iqbal has deserted the military and now he is  with mujahedeen somewhere in AF PAK border area”
For authenticity of  this tape journalists can easy reach to his home town to interview his family members or   ISPR as he reveals his army service number”
Asalam o Alaikum: My name is Muddassir Iqbal. My father’s name is Naimat Ali. I belong to Sialkot divison (Punjab province), my village is Shamsher Poor and district, tehsil and post office  Narowal. Unfortunately I was working in Pakistan army. I feel embarrassed to tell you …

CPEC Jobs in Pakistan, salary details

JOBS...نوکریاں چائنہ کمپنی میںPlease help the deserving persons...Salary:Salary package in China–Pakistan Economic Corridor (CPEC) in these 300,000 jobs shall be on daily wages. The details of the daily wages are as follows;Welder: Rs. 1,700 dailyHeavy Duty Driver: Rs. 1,700 dailyMason: Rs. 1,500 dailyHelper: Rs. 850 dailyElectrician: Rs. 1,700 dailySurveyor: Rs. 2,500 dailySecurity Guard: Rs. 1,600 dailyBulldozer operator: Rs. 2,200 dailyConcrete mixer machine operator: Rs. 2,000 dailyRoller operator: Rs. 2,000 dailySteel fixer: Rs. 2,200 dailyIron Shuttering fixer: Rs. 1,800 dailyAccount clerk: Rs. 2,200 dailyCarpenter: Rs. 1,700 dailyLight duty driver: Rs. 1,700 dailyLabour: Rs. 900 dailyPara Engine mechanic: Rs. 1,700 dailyPipe fitter: Rs. 1,700 dailyStorekeeper: Rs. 1,700 dailyOffice boy: Rs. 1,200 dailyExcavator operator: Rs. 2,200 dailyShovel operator: Rs. 2,200 dailyComputer operator: Rs. 2,200 dailySecurity Supervisor: Rs. 2,200 dailyCook for Chinese food: Rs. 2,000 dailyCook…

Historical relationship between Kurd and Baloch.

The Kurds are the ethnical group living in a region known as Kurdistan which is divided into Iraq, Syria, Turkey and Iran. They  are struggling for an independent region since decades and they are famous for their female guerrilla fighters.        On 25 September 2017, the referendum for an independent Kurdish region  was held in Iraq with a turn out of 72 %.   On this important occasion, the historical relation between Kurd and Baloch people is worth discussing.       When it comes to history, every nation tends to find its roots and origin. Same goes with the Baloch people. The Baloch people are always curious  about  finding their roots in history. Even if you  talk to a shepherd in Balochistan, he will be curious to talk about his  tribal or ethnical roots.      The Balochs have always conveyed the history to the next generations in different mediums like poems etc. No Baloch before 20th century had written books on  history  or origin of the Baloch nation .
        Balochs…