Friday, September 8, 2017

Naela Quadri threatened​ by Political rivals

Baloch leader Prof.Naela Quadri Baloch was threatened by her political rivals in a  Facebook message that she will end up as former leader and former spokesperson of Balochistan Government Mr. Razik Bugti. Her political adversaries are primarily tribal cheftians also called as Sardars.

In a WhatsApp group Prof.Naela Quadri said  "Should I take it as a life threat? I may have same fate as Raziq Bugti for opposing Sardars".

پنجابی ٹوپاسوں کا مڈل کلاسی جراثیم
قومی تحریک اور سماجی تحریک میں فرق ہوتا ہے جو لوگ قومی تحریک کو سماجی تناظر میں کرتے ہیں وہ حقیقت میں شعوری طور پر یا کہ لاشعوری طور پر قوم پرستی کی جڑیں کاٹ رہے ہوتے ہیں کیونکہ قوم پرستی کی تحریک میں تمام قوم کے طبقات قومی تحریک میں یکسان طور پر جدوجہد میں اپنی ذمداریاں ادا کرتے ہیں سردار نواب میر امیر غریب سب قومی نجات میں قابض کی جبر اور محکومی کا شکار ہوتے ہیں اور اس محکومی سے نکلنا چاہتے ہیں قومی تحریک میں دو طبقہ ہوتے قابض اور محکوم جبکہ قابض اس کو اپنے دلالوں اور زرخرید لوگوں کے ذریعے تبدیل کرتے ہوئے قومی تحریک میں طبقاتی مسلہ پیداکرتے ہوئے خود کو وہاں سے نکالتا ہے جو کہ کسی بھی جدوجہد کے لیے اس طرح کی جراثیم کا پھیلنا قومی تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور قابض اپنے ٹوپاس اور اپنی نسل کے لوگوں کے ذریعے یہ جراثیم قومی تحریک میں عام کرنا شروع کرتا ہے کہ سردار نواب تحریک کے لیے خطرہ ہیں وغیرہ وغیرہ جس طرح 1980میں قابض نے ٹوپاس صابر کے توسط سے پھر ڈاکٹر کہور خان ،رازق بگٹی،بعد میں ڈاکٹر مالک کے ذریعے یہ تحریک کش جراثیم پھیلایا لیکن قوم نے دیکھا کہ رازق بگٹی صابر مالک نے نواب اکبر خان بگٹی اور سردار خیربخش بالاچ کے خلاف باتیں کی کہ سردار ہیں لیکن نواب بگٹی ،بالاچ اور نواب مری آخری وقت تک اپنی بلوچی غیرت ننگ ناموس کی خاطر قابض پنجابی کے سامنے ڈٹے رہے لیکن مڈل کلاس صابر ،کہور خان،رازق بگٹی،ڈاکٹر مالک آج قابض کے دلوئے چاٹ رہے ہیں اور لوگوں کو شہید کروانے میں قابض کامعاون بنے ہوئے ہیں ۔آج پھر قابض اپنے ٹوپاس اور پنجابیوں کے ذریعے پرانی جراثیم کو نئی اسپرے مشین میں ڈال کر نائلہ قادری طارق فتع نوری مریم،جمع خان مری اور لاہوری سوشلسٹوں کے ساتھ بلوچ قوم میں پھیلانا چاہا رہا ہے اور مکران سے قابض نے جتنے لوگ لاہور اسلام آباد پڑھنے کے لیے لے گئے سب کو برین واش کیا جارہا ہے کہ آزادی کی تحریک اور نیشنلزم کو چھوڑ کر سوشلسٹ بن جائیں اور سوشلزم کو بلوچستان میں عام کریں قابض اپنے ٹوپاس اور نائلہ قادری اور طارق فتع جیسے لوگوں کے ذریعے ایک بار پھر قوم میں اتحاد اور اتفاق کے نام پر مڈل کلاسی کاجراثیم پھیلانا چارہا ہے کچھ لوگ استعمال ہورے ہیں اور کچھ شوق لیڈری قومی مفادات کے بجائے وقتی شوشا اور ضد و انا میں ان کھلاڈیوں کے ہاتھوں استعمال ہونے جارے ہیں لیکن جس طرح صابر ،مالک کہورخان رازق بگٹی بلوچستان میں نیشنلزم کے سامنے ڈھیر ہوا تو نائلہ اور طارق فتع اور چند ٹوپاسوں کا اسکیم بھی انکی طرح ہوگا لیکن وقتی طور پر نقصان قوم کا ہوگا کیونکہ جب حالات اصولی قومی یکجہتی اور اتحاد کا ہو وہاں پر مظلوم اور محکوم قوم پر ایران اور پاکستان کی ایما پر مڈل کلاسی کا جراثیم پھیلانا نقصان دہ ضرور ہوگا لیکن یہ عمل قومی تحریک کی رفتار کو سست کرسکتا ہے لیکن اسے روک نہیں سکتا

No comments:

Post a Comment