Monday, August 28, 2017

Bugti Case: Baloch must learn from history

http://niazamana.com/2017/08/akbar-bugti

Above link article is roughly translated as below

It says that during Bugti's Governorship, Balochistan witnessesed the worst military operation. Thousands Baloch citizens were killed and Bugti didn't say a single word about it. It also describes his ugly role in toppling the elected government of Balochistan and talks about the London plan that he used to incite Punjabi establishment to end the NAP's elected Government in Balochistan.

My purpose of sharing it was and is that Baloch must learn from the history. They must not trust Punjabi establishment, as they will use them against their own people and then when time comes they will dump and eliminate them as they did to Bugti.Punjabi establishment can not be trusted. Never ever trust your enemies.
____________________________________

It is unfortunate that many Nawabs and Sardars and their some so called Baloch militants groups, including the BLA and UBA, with thier phony and fake slogans of Azadee, are secretly colluding with ISI and are involved in profiling, killing and disappearing of Baloch youths inside Balochistan. Their actions speaks louder than their words.

Original Article


لیاقت علی

گیارہ سال قبل ایک فوجی آپریشن میں بلوچستان کے چوتھے گورنر اور چھٹے وزیراعلی نواب اکبر خان بگٹی کو ان کے بتیس ساتھیوں سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے کیے کی سزا ضرور ملنا چاہیے۔

نواب اکبر بگٹی سیاست دان سے زیادہ قبائلی سردار تھے۔ وہ اکھڑ، ضدی اور ناقابل مصالحت رویوں کے حامل تھے۔ سیاست ان کے لئے عوامی خدمت کی بجائے قبائلی عصبیت اور تعصب کی تسکین کا ذریعہ تھی۔ ایچیسن کالج کے تعلیم یافتہ بگٹی پاکستان سول سروس کے پہلے بیج میں شامل تھے لیکن انھوں نے کوالیفائی کرنے کے باوجو د سول سروس جائن نہیں کی تھی۔ وہ ایوب خان کے مارشل لا سے قبل تشکیل پانے والی ری پبلیکن پارٹی کی حکومت میں مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع تھے۔

ان کا غیر جمہوری اور قبائلی کردار اس وقت سامنے آیا جب مئی 1972میں بلوچستان میں عطااللہ مینگل کی قیادت میں صوبائی حکومت قائم ہوئی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ قیام پاکستان کے بعد بلوچستان میں یہ پہلی منتخب حکومت قائم ہوئی تھی۔بھٹو کو یہ گوارا نہیں تھا کہ صوبوں میں اقتدار منتخب نمائندوں کو ملے۔ انھوں بہت زیادہ ردو کد کے بعد صوبہ سرحد اور بلوچستان میں نیپ اور جمعیت کی مخلوط حکومتیں بنانے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

جونہی یہ حکومتیں بنیں بھٹو اور ان کے وزیر داخلہ قیوم خان نے ان دونوں حکومتوں کو عدم استحکام سےدوچار کرنے کے ایک مربوط منصوبے پرعمل درآمد شروع کردیا۔ صوبہ سرحد میں کسان تحریک کے نام پر صوبائی حکومت کے خلاف کاروائیاں شروع کیں۔ معراج محمد خان اور طارق عزیز نیپ اور جمعیت کی حکومت کو خوانین اور جاگیرداروں کی حکومت کو قرار دیتے اور اسے ہٹا کر مزدرووں کسانوں کی حکومت قائم کرنے کے لئے صوبہ سرحد میں جلسے جلوس کیا کرتے تھے۔

جب کہ بلوچستان میں پٹ فیڈر کے علاقے میں وفاقی حکومت کی ایما پر شورش بر پا کرائی گئی۔ بلوچستان میں پختونوں اور بلوچوں کے مابین لڑائی کرانے کے لئے نادیدہ قوتوں نے عبدالصمد خان اچکزئی کو ان کے گھر میں بم مار کر ہلاک کردیا جب کہ بلوچستان اسمبلی کے پختون ڈپٹی سپیکر مولوی شمس الدین بھی قتل کردیے گئے ان کاروائیوں کا مقصد یہ تھا کہ بلوچستان کے پختونوں اور بلوچوں کے مابین تنازعات اور تضادات کو تیز کیا جائے کیونکہ ان دونوں قومیتوں کے مابین اچھے تعلقات ان قوتوں کے لئے مفید نہیں تھے جو بلوچستان کو اپنے انگوٹھے کے نیچے رکھنے کے خواہاں تھیں ۔

اس ساری صورت حال میں بلوچستان میں غیر جمہوری قوتوں کو سب سے بڑی مدد اور حمایت نواب اکبر بگٹی نے فراہم کی تھی۔وہ پورے ملک میں شہر شہر جاکر جلسوں میں کہا کرتے تھے کہ عطا اللہ مینگل کی حکومت بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنا چاہتی ہے اور بلوچستان کے تحفط کے لئے ضروری ہے کہ مینگل حکومت کو بر طرف کیا جائے اپنے اس مشن میں بگٹی کو بھٹو اور قیوم خان کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

انہی دنوں اکبر بگٹی نے لندن پلان کا انکشاف کیا تھا جو ان کے نزدیک پاکستان کو توڑنے کی سازش تھی اور جس میں نیپ کی قیادت بالعموم اور بلوچستان کی حکومت اور نیپ قیادت بالخصوص ملوث تھی۔ عراقی سفارت خانے سے اسلحے برآمدگی کےڈھونگ میں بھٹو کے ساتھ ساتھ بگٹی بھی شامل تھے۔

جب بھٹو نے مینگل حکومت کو بر طرف کیا تو بگٹی بلوچستان کے گورنر بن گئے وہ گیارہ ماہ تک بلوچستان کے گورنر رہے۔ ان کے دور میں بلوچستان میں تاریخ کا بدترین فوجی آپریشن ہوا جس پر انھوں نے کبھی کوئی احتجاج نہ کیا۔ اسی دوران بھٹو نے نیپ پر پابندی عائد کی اور نیپ کی ساری قیادت کو گرفتار کرکے بغاوت کا مقدمہ بنادیا جسے عام طور پر حیدر آباد ٹریبونل کیس کہا جاتا ہے۔

چار سال تک نیپ قیادت، حبیب جالب اور معراج محمد خان حید ر آباد جیل میں پابند سلاسل رہے۔ بلوچستان کو آج جن مسائل کا سامنا ہے ان کو الجھانے اور پےچیدہ کرنے میں اکبر بگٹی نے رول ادا کیا ہے۔ ان کی ہلاکت کا ماتم اپنی جگہ لیکن انھوں نے بلوچستان کی سیاست میں جو غیر جمہوری اور ایسٹیبلشمنٹ کے کارندے کو رول ادا کیا اس کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔


No comments:

Post a Comment