Skip to main content

Bugti Case: Baloch must learn from history

http://niazamana.com/2017/08/akbar-bugti

Above link article is roughly translated as below

It says that during Bugti's Governorship, Balochistan witnessesed the worst military operation. Thousands Baloch citizens were killed and Bugti didn't say a single word about it. It also describes his ugly role in toppling the elected government of Balochistan and talks about the London plan that he used to incite Punjabi establishment to end the NAP's elected Government in Balochistan.

My purpose of sharing it was and is that Baloch must learn from the history. They must not trust Punjabi establishment, as they will use them against their own people and then when time comes they will dump and eliminate them as they did to Bugti.Punjabi establishment can not be trusted. Never ever trust your enemies.
____________________________________

It is unfortunate that many Nawabs and Sardars and their some so called Baloch militants groups, including the BLA and UBA, with thier phony and fake slogans of Azadee, are secretly colluding with ISI and are involved in profiling, killing and disappearing of Baloch youths inside Balochistan. Their actions speaks louder than their words.

Original Article


لیاقت علی

گیارہ سال قبل ایک فوجی آپریشن میں بلوچستان کے چوتھے گورنر اور چھٹے وزیراعلی نواب اکبر خان بگٹی کو ان کے بتیس ساتھیوں سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے کیے کی سزا ضرور ملنا چاہیے۔

نواب اکبر بگٹی سیاست دان سے زیادہ قبائلی سردار تھے۔ وہ اکھڑ، ضدی اور ناقابل مصالحت رویوں کے حامل تھے۔ سیاست ان کے لئے عوامی خدمت کی بجائے قبائلی عصبیت اور تعصب کی تسکین کا ذریعہ تھی۔ ایچیسن کالج کے تعلیم یافتہ بگٹی پاکستان سول سروس کے پہلے بیج میں شامل تھے لیکن انھوں نے کوالیفائی کرنے کے باوجو د سول سروس جائن نہیں کی تھی۔ وہ ایوب خان کے مارشل لا سے قبل تشکیل پانے والی ری پبلیکن پارٹی کی حکومت میں مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع تھے۔

ان کا غیر جمہوری اور قبائلی کردار اس وقت سامنے آیا جب مئی 1972میں بلوچستان میں عطااللہ مینگل کی قیادت میں صوبائی حکومت قائم ہوئی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ قیام پاکستان کے بعد بلوچستان میں یہ پہلی منتخب حکومت قائم ہوئی تھی۔بھٹو کو یہ گوارا نہیں تھا کہ صوبوں میں اقتدار منتخب نمائندوں کو ملے۔ انھوں بہت زیادہ ردو کد کے بعد صوبہ سرحد اور بلوچستان میں نیپ اور جمعیت کی مخلوط حکومتیں بنانے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

جونہی یہ حکومتیں بنیں بھٹو اور ان کے وزیر داخلہ قیوم خان نے ان دونوں حکومتوں کو عدم استحکام سےدوچار کرنے کے ایک مربوط منصوبے پرعمل درآمد شروع کردیا۔ صوبہ سرحد میں کسان تحریک کے نام پر صوبائی حکومت کے خلاف کاروائیاں شروع کیں۔ معراج محمد خان اور طارق عزیز نیپ اور جمعیت کی حکومت کو خوانین اور جاگیرداروں کی حکومت کو قرار دیتے اور اسے ہٹا کر مزدرووں کسانوں کی حکومت قائم کرنے کے لئے صوبہ سرحد میں جلسے جلوس کیا کرتے تھے۔

جب کہ بلوچستان میں پٹ فیڈر کے علاقے میں وفاقی حکومت کی ایما پر شورش بر پا کرائی گئی۔ بلوچستان میں پختونوں اور بلوچوں کے مابین لڑائی کرانے کے لئے نادیدہ قوتوں نے عبدالصمد خان اچکزئی کو ان کے گھر میں بم مار کر ہلاک کردیا جب کہ بلوچستان اسمبلی کے پختون ڈپٹی سپیکر مولوی شمس الدین بھی قتل کردیے گئے ان کاروائیوں کا مقصد یہ تھا کہ بلوچستان کے پختونوں اور بلوچوں کے مابین تنازعات اور تضادات کو تیز کیا جائے کیونکہ ان دونوں قومیتوں کے مابین اچھے تعلقات ان قوتوں کے لئے مفید نہیں تھے جو بلوچستان کو اپنے انگوٹھے کے نیچے رکھنے کے خواہاں تھیں ۔

اس ساری صورت حال میں بلوچستان میں غیر جمہوری قوتوں کو سب سے بڑی مدد اور حمایت نواب اکبر بگٹی نے فراہم کی تھی۔وہ پورے ملک میں شہر شہر جاکر جلسوں میں کہا کرتے تھے کہ عطا اللہ مینگل کی حکومت بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنا چاہتی ہے اور بلوچستان کے تحفط کے لئے ضروری ہے کہ مینگل حکومت کو بر طرف کیا جائے اپنے اس مشن میں بگٹی کو بھٹو اور قیوم خان کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

انہی دنوں اکبر بگٹی نے لندن پلان کا انکشاف کیا تھا جو ان کے نزدیک پاکستان کو توڑنے کی سازش تھی اور جس میں نیپ کی قیادت بالعموم اور بلوچستان کی حکومت اور نیپ قیادت بالخصوص ملوث تھی۔ عراقی سفارت خانے سے اسلحے برآمدگی کےڈھونگ میں بھٹو کے ساتھ ساتھ بگٹی بھی شامل تھے۔

جب بھٹو نے مینگل حکومت کو بر طرف کیا تو بگٹی بلوچستان کے گورنر بن گئے وہ گیارہ ماہ تک بلوچستان کے گورنر رہے۔ ان کے دور میں بلوچستان میں تاریخ کا بدترین فوجی آپریشن ہوا جس پر انھوں نے کبھی کوئی احتجاج نہ کیا۔ اسی دوران بھٹو نے نیپ پر پابندی عائد کی اور نیپ کی ساری قیادت کو گرفتار کرکے بغاوت کا مقدمہ بنادیا جسے عام طور پر حیدر آباد ٹریبونل کیس کہا جاتا ہے۔

چار سال تک نیپ قیادت، حبیب جالب اور معراج محمد خان حید ر آباد جیل میں پابند سلاسل رہے۔ بلوچستان کو آج جن مسائل کا سامنا ہے ان کو الجھانے اور پےچیدہ کرنے میں اکبر بگٹی نے رول ادا کیا ہے۔ ان کی ہلاکت کا ماتم اپنی جگہ لیکن انھوں نے بلوچستان کی سیاست میں جو غیر جمہوری اور ایسٹیبلشمنٹ کے کارندے کو رول ادا کیا اس کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

Balochistan to establish first medical university

https://www.dawn.com/news/1366135

The Newspaper's Staff CorrespondentOctober 25, 2017QUETTA: The provincial cabinet on Tuesday approved the draft for establishing a medical university in Balochistan.Health minister Mir Rehmat Saleh Baloch made the announcement while speaking at a press conference after a cabinet meeting.“The cabinet has approved the draft of the medical university which would be presented in the current session of the Balochistan Assembly,” he said, adding with the assembly’s approval the Bolan Medical College would be converted into a medical university.Published in Dawn, October 25th, 2017

5 Shia Hazara community members gunned down in Pakistan

http://m.hindustantimes.com/world-news/5-shia-hazara-community-members-gunned-down-in-pakistan/story-CHWR4lYByRHzf2KjHjMloI.html



Five members of the minority Shia Hazara community, including two women, were killed on Sunday in an attack by unidentified gunmen in Pakistan’s restive Balochistan province.This is not the first time that members of the Hazara community have been targeted in Quetta and other parts of Balochistan.(Reuters File Photo)Updated: Sep 11, 2017 00:20 ISTBy Press Trust of India, Press Trust of India, KarachiFive members of the minority Shia Hazara community, including two women, were killed on Sunday in an attack by unidentified gunmen in Pakistan’s restive Balochistan province.The gunmen targeted a car in Kuchluck area of Quetta while it was coming from the Chaman border crossing area, police said.The firing took place when the travellers had stopped at a filling station to refuel their vehicle. Five people of the Shia Hazara community, including two women, died in …

China’s 'Digital Silk Road': Pitfalls Among High Hopes

https://thediplomat.com/2017/11/chinas-digital-silk-road-pitfalls-among-high-hopes/


Will information and communication technologies help China realize its Digital Silk Road?By Wenyuan WuNovember 03, 2017In his speech at the opening ceremony of China’s 19th Party Congress, President Xi Jinping depicted China as a model of scientific and harmonious development for developing nations. Xi’s China wants to engage the world through commerce but also through environmental protection and technological advancement. This includes Beijing’s efforts to fight climate change with information and communication technologies (ICTs) that it plans to export along its “One Belt One Road” initiative (OBOR). Xi may have ambitious plans, but could China be throwing up obstacles in its own way?In his speech, the Chinese president emphasized the need to modernize the country’s environmental protections. The Chinese state is taking an “ecological civilization” approach to development and diplomacy, with a natio…